ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی خلیج عدن میں کشیدگی کا موجب

ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی خلیج عدن میں کشیدگی کا موجب

Tue, 18 Oct 2016 16:22:03    S.O. News Service

تہران،18؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ایران کے بحری جہاز ایک ہفتے سے خلیج عدن میں موجود ہیں۔ اس دوران قذاق گروپوں کے ساتھ بھی تین تجارتی جہازوں کی مڈ بھیڑ ہوئی ہے جس کے بعد سمندرمیں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج عدن میں ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی اور ایرانی میزائلوں سے امریکی جہازوں پر حملے کشیدگی کا موجب بن رہے ہیں۔ایران کے الخبر ٹی وی چینل کے مطابق حال ہی میں صومالیہ سے آنے والے تین قذاق گروپوں نے تین ایرانی بحری جہازوں پر خلیج عدن کے جنوب میں 55میل دور بحری قذاقوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ٹی وی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی فوج کیالوند بحری جنگی جہاز سے وابستہ گروپ 44کے اہلکاروں اور قذاقوں کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر فائرنگ کی گئی۔

ایرانی فوج اور بحری قذاقوں کے درمیان یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایرانی بحریہ جنگی کشتیوں کی موجودگی پرامریکا اور خلیجی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جب سے ایران نواز حوثیوں نے ایرانی ساختہ میزائلوں سے امریکی بحری بیڑے یو ایس میسن پرحملے شروع کیے ہیں ایرانی بحریہ کی خلیج عدن میں موجودگی ک تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی نہ صرف امریکی بحری جہازوں پر راکٹ حملے کررہے ہیں بلکہ حوثی باغی سعودی عرب پرزلزال3 راکٹوں سے حملے کررہے ہیں۔ یہ راکٹ بھی ایران کی جانب سے باغیوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔


Share: